Pages

Showing posts with label یمنیٰ مصطفائی. Show all posts
Showing posts with label یمنیٰ مصطفائی. Show all posts

Thursday, 19 September 2013

تعلیم برائے حصول روز گار

 یمنیٰ مصطفائی
بی ایس سال سوئم        تعلیم برائے حصول روز گار
تعلیم وروزگار کی اہمیت: تعلیم کا اصل اور بنیادی مقصد انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانا اور اس کے کردار کو سنوارنا ہے۔ تعلیم صرف انسان کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما و تربیت کرتی اور اُسے اچھے برے کی تمیزہی نہیں سکھاتی بلکہ ہر قسم کے حالات میں جینے کا طریقہ بھی سکھاتی ہے۔ یہ صرف تعلیم ہی ہے جو انسان کو دوسری تمام مخلوقات سے افضل بناتی اور صحیح غلط کا شعور عطا کر کے اُسے اشراف المخلوقات کے درجے تک پہنچاتی ہے۔تعلیم ہمیں زندگی کا مقصد عطا کرتی اور اسے صحیح طریقے سے گزارنے کا گُر سکھلاتی ہے۔ بے شک ہماری اخلاقی و ذہنی تربیت، ہمارا کردار اور شخصیت سب اچھی تعلیم ہی کے مرہون منت ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ علم ہماری شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
علم و روزگار کا باہمی تعلق: ان سب باتوں کے باوجود روزگار کی بھی اپنی ایک الگ اہمیت اور حیثیت ہے۔ اپنی روزمرہ خواہشات وضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہم سب پیسے ہی کے مُحتاج ہیں ۔ لیکن صرف اور صرف پیسے کمانے کے پیش نظر علم کا حصول ایک نہایت غلط اور منفی طرز عمل ہے۔ 
بے شک علم اور روزگار اپنی اپنی جگہ نمایاں حیثیت اور اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں میں سے کسی کی بھی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ایک وقت ہوتا تھا جب گھر کے بچوں بالخصوص لڑکیوں کو اس مقصد کے تحت تعلیم دی جاتی تھی کہ وہ آگے چل کر ہر لحاظ سے ایک اچھے انسان اور ذمہ دار شہری بن سکیں لیکن موجودہ معاشرے سے یہ سوچ رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے اور اس کی جگہ یہ سوچ جڑ پکڑ رہی ہے کہ کس طرح اپنی تعلیم پہ آنے والے اخراجات کو سُود سمیت حاصل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے علم کو محض پیسہ کمانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے جو باعثِ افسوس بھی ہے۔ 
آج کل تعلیم محض حصولِ روزگار کا ذریعہ ہی کیوں۔۔؟؟لیکن اگر ہم اپنے آج کے ماحول پہ نظر ڈالیں تو یوں نظرآتا ہے جیسے ہر کوئی اپنی اخلاقی تربیت اور ذمہ دار شہری بننے کے لئے نہیں بلکہ محض اعلیٰ مرتبے اور دولت کے لئے علم حاصل کر رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے اکثر کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ کس طرح اعلیٰ تعلیم کی بدولت زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جا سکتاہے۔
گزشتہ ۵۱، ۰۱ سالوں سے ہمارے ہاں اس رُجحان نے بہت تیزے سے فروغ پایا ہے کہ جتنے اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی جائے گی روزگار کے مواقع اُتنے ہی بڑھیں گے۔ اس رجحان کو فروغ دینے میں زیادہ ہاتھ ہمارا اپنا ہی ہے۔ موجودہ دور میں جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ اور آسائشیں ہیں لوگ اس کی اُتنی ہی زیادہ عزت و تکریم کرتے ہیں۔ گویا اب انسان کی عزت اس کے اچھے اخلاق و کردار کے باعث نہیں بلکہ معاشرے میں اُس کا پیسہ اور مُقام و رتبہ دیکھ کر کی جاتی ہے۔ جب تعلیم محض ذاتی نمودُ نُمائش اورجھوٹی عزت پانے کے لئے حاصل کی جائے تو علم حاصل کرنے کا اصل مقصد تو ضائع ہی گیانہ۔ ایسی صورتحال میں کامیاب، دولت مند و مشہور ڈاکٹرز اور انجینئرز تو سامنے آسکتے ہیں لیکن اُن میںاچھے انسان کا ملنا مُحال ہے۔
دولت کے پیچھے بھاگنے والے نادانوں کو کون یہ سمجھائے کہ محض اچھی ملازمت حاصل کرنے کی غرض سے علم کا حصول کسی بھی طور قابلِ ستائش عمل نہیں کیونکہ علم کا بنیادی مقصد محض اعلیٰ ڈگری حاصل کر کے انہیں دیواروں پہ سجانا اور اونچی ملازمتوں پہ فائز ہونا نہیں بلکہ ہر لحاظ سے ہمیں ایک اچھا اور با عمل انسان بنانا ہے۔ علم ایسا ہو جس سے صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہم سے وابستہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔
علم برائے روزگار اور اس کے مُضمرات: تعلیم برائے روزگار کا یہ رجحان ہمارے لئے سخت نقصان کا موجب ہے۔ اس رجحان کے ہوتے ہوئے ہم شوق نہ ہونے کے باوجود بھی صرف سوسائٹی میں اعلیٰ مقام بنانے کی خاطر ان شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جو کسی بھی طرح ہمارے مزاج اور شوق سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ زیادہ پیسہ و شُہرت کمانے کی ہوس میں چاہے طالب علم کا رجحان آرٹس مضامین کی طرف ہو یا ادب، زبان و مذہب سے، پیسے کے حصول کی خاطر وہ روائتی پیشہ ورانہ مضامین کا ہی انتخاب کرے گا۔ حالانکہ سوشل سائنسز اور آرٹس کے مضامین کی بھی وہی اہمیت اور مقام ہے جو سائنسی مضامین کی لیکن چونکہ انِ مضامین میں روپے پیسے کی ویسی ریل پیل نہیں ہوتی جیسی ہم چاہتے ہیں اس لئے طالب علموں کی اکثریت ان شعبوں کا انتخاب کرنے سے کتراتی ہے۔ دوسری جانب محض اچھے روزگار کی خاطرہم لگے بندھے نصاب میں ہی خود کو ڈھالنے کی کوشش کریں گے اور اس کوشش میں محض لکیر کے فقیر بن کر دوسروں سے اپنی تضحیک کا سامان خود پیدا کریں گے۔ جسکا قطعی کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا یہ عمل ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ جب ہم تحقیقی کام نہیں کرتے تو آگے بڑھنے کے تمام راستے خود اپنے ہاتھوں سے مسدود کر لیتے ہیں۔
اس کے علاوہ تعلیم برائے حصول روزگار کا رجحان ہم میں مادیت پرستی کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ محض اپنی آسائشوں اور جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے ہم پیشہ ورانہ علوم کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں جس کے باعث نسبتاً کم اہمیت کے حامل مضامین کو پرھنے والوں کی تعداد مین روز بروز نمایاں کمی دیکھنے مین آرہی ہے۔ اور اس طرح ہم متفرق شعبوں کے ماہرین سے محروم ہوتے جا رہے ہیں جو نہایت بد قسمتی کی بات ہے۔
معاشی طور پہ بھی کوئی ملک صرف بیوروکریٹس، ڈاکٹرز، انجینئرز کے سہارے ہی ترقی نہیں کر سکتا بلکہ ادیب، مصور، شعراءو اساتذہ کرام سب مل کے ہی ملک کی تعمیر و ترقی مین اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ان سب کے سہارے ہی ملک ترقّی کی شاہراہ پہ آگے بڑھتا ہے۔
غلط رجحان ختم کیسے کیا جائے۔۔۔؟؟تعلیم برائے حصول روزگار کے رجحان کو اپنی زندگی اور معاشرے سے ختم کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے کیانکہ اس کے ہوتے ہو ئے نہ تو ہم خود کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو ہماری ذات سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 
۱) ملکی سطح پر تعلیم برائے حصول روزگار کے اس غلط رجحان کو ختم کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنی انفرادی زندگیوں سے اس غلط نظریہ کو ختم کرنا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف اور صرف ہمیں اچھی ملازمت و روپیہ پیسہ فراہم کرناہے۔ 
۲) تعلیم یافتہ دوسرے ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی والدین کو چاہئے کہ وہ اوائل عمری سے ہی تعلیم کا فیصلہ بچّوں پہ چھوڑ دیں کہ وہ اپنی دلچسپی اور شوق کے مطابق جس شعبے کا چاہیں انتخاب کریں اور اس سے فائدہ اٹھاہیں چاہے وہ شعبہ اسکوپ اور پیسے کے لحاظ سے معمولی تر ہی کیوں نہ ہو۔
۳) دوسری جانب اساتذہ پہ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شروع سے ہی طالب علموں کے ذہنوں میں یہ بات نہ آنے دیں کہ تعلیم زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس کے برعکس انہیں طالب علم کو تعلیم کے اصل فوائدو حقائق سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہنا چاہئے تاکہ علم حاصل کرنے کا اصل مقصد فوت نہ ہونے پائے۔
۴) حرفِ آخر یہ کہ حکومتی سرپرستی میں صرف گنے چُنے چند مضامین ہی نہیں بلکہ کم اہمیت کے حامل مضامین کی بھی بھرپور پذیرائی کی جانی چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے مضامین کے لئے بھی مخصوص تعلیمی ادارے بنائے جائیں تاکہ ہمیں ہر فیلڈ اور ہر مضمون کے ماہرین میسّر ہو سکیں جو یقینًا اندرون و بیرون ممالک میں ہماری نیک نامی و شُہرت کا باعث بنیں گے۔ 
 یمنیٰ مصطفائی
بی ایس سال سوئم 

طالب علموں میں مطالعہ کا فقدان

طالب علموں میں مطالعہ کا فقدان تحریر : یمنیٰ مصطفائی
بی ایس سال سوئم 2013 
"کتاب انسان کی بہترین دوست ہے"۔ آج کے طالب علموں سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ا±ن کی زندگی کی ترجیحات میں کتاب شامل ہے تو یقینا ۰۸ فیصد کا جواب نفی میں ہوگا۔ م±ثبت جواب دینے والے ۵ ۱ فیصد اس کہاوت سے متفق تو ہوں گے لیکن ا±ن کی اپنی عملی زندگی میں کتاب کا عمل دخل بہت کم ہوگا۔ باقی ۵ فیصد ہی صحیح معنوں میںوہ خ±وش نصیب ہوں گے جو کتاب کی ص±حبت میں اپنا وقت گ±زارتے ہیں۔ 
یہ مفر±وضات کافی حد تک درست ہونے کے ساتھ ساتھ باعث تشویش بھی ہیں۔
م±طالعہ کی اہمیت:
بے شک کتابیں انسان کی نہ صرف اچھی دوست اور وقت گ±زاری کا ایک بہترین ذریعہ ہیں بلکہ یہ ہمیں ہر موض±وع سے م±تعلق بیش بہا معل±ومات بھی فراہم کرتی ہیں۔ دنیا کا شاید ہی کوئی موضوع ایسا ہو جو کتابی صورت میں ڈھلنے سے رہ گیا ہو۔ اگر ہم چاہیں تو اپنے پسندیدہ موضوع پہ کتاب منتخب کر کے ا±س سے کماح±قّہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ یہ شوق خاصی لگن اور قت کا متقاضِی ہے جس سے ہماری اکثریت محروم ہے۔ مطالعہ ایک انتہائی بیش قیمت سرگرمی ہے جس سے ہماری سوچ کے نئے درِیچے وا ہوتے ہیں۔ لیکن بصد افسوس یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے طالب علموں کی اکثریت اس شوق سے کوسوں دور اور لاتعلق ہے۔ یہ ہماری انتہاءبد قسمتی ہی ہے کہ ہمیں اس بات کا تو بخوبی علم ہوتا ہے کہ کونسی فلم آئندہ ریلیز ہونے والی ہے اور کس گانے نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کون سی کتاب کس مہینے وسال کی "بیسٹ سیلر" رہی ہے۔ جتنی روانی سے ہم طالب علموں کو گلوکاروں و اداکاروں کے نام یاد ہوں گے اگر ان سے انکی ہی زبان کے ۳ نامور م±صنفین، ادیب و شعراءکے نام پوچھے جائیں تو وہ حیرت وشرمندگی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگتے ہیں۔ جبکہ یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ڈرامے اور گانے وقت گزاری اور تفریح کا بہترین ذریعہ تو ہیں پر اپنے ناظرین کو بیش بہا معلومات کی فراہمی سے یکسر عاری ہیں۔ اسکے برعکس اگر ہم اپنے پورے دن میں سے صرف ایک گھنٹہ بھی کتابوں اور اخبارات کی ص±حبت مین گ±زاریں گے تو یہ نہ صرف بہترین وقت گزاری کا سبب بنے گا بلکہ اخبارات و ک±تب کی صحبت میں گزرا ہر لمحہ ہماری شخصیت نکھارنے میں مزید مددگار وم±عاون ہوگا۔
م±طالعہ میں کمی کیوں۔۔۔؟؟؟
کتابوں سے طالب علموں کی دلچسپی میں گ±زشتہ چند برسوں کے دوران شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ آج کے دور میں طالب علموںکی م±طالعہ سے دوری کی ایک اہم اور بڑی وجہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ کا بے تحاشہ، بلاضر±ورت اور بے دریغ بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو نیٹ ورکنگ سائٹ دنیا بھر میں خیالات کی ترسیل و م±ثبت پیغام رسانی کا ذریعہ ہیں وہ ہمارے ہاں کے طالب علم کے لئے محض فالتو وقت گزاری اور بلا مصرف تفریح کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہیں جس سے انہیں کسی م±ثبت سرگرمی کا موقع بھی نہیں مل پاتا۔ اگر آج کا طالبعلم دن بھر میں ان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پہ گزارے جانے والے وقت میں سے محض ایک گھنٹہ بھی مطالعہ کو دے تو یقینا اسکے خاطر خ±واہ نتائج نکلیں گے۔
مطالعہ سے دوری کی دوسری بڑی وجہ اخبارات وکتب کا مہنگا ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔لیکن آپ خود انصاف سے بتائیے کہ ہر چیز مہنگی ہونے کے باوجود کیا ہم نے اسکا استعمال بالکل ترک کر دیا ہے؟ نہیں نہ۔! تو پھر کتابوں کے ساتھ ہی یہ معاملہ کیوں۔۔؟؟
ٓ"آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی"کے مطابق پاکستان میں محض۵۲ لاکھ لوگ ایسے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس ۵ ۲ لاکھ میں سے بھی اکثریت اخبار کو سرسری طور پہ دیکھنے والوں کی ہے۔ 
پاکستان کی موجودہ ۰۲ کروڑ کی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر لگتی ہے۔ جب اخبارات کے قارئین کا یہ عالم ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ک±تب پڑھنے والوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہوگی جو یقیناً ہم سب کے لئے باعث تشویش ہے۔
مطالعہ میں بہتری کے لئے چند تجاویزات۔۔۔ 
تیز رفتاری کے اس دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ علم حاصل کرنے کے روایتی طریقوں کو بھی برقرار رکھا جائے۔ طالب علموں میں ابتداءہی سے م±طالعہ کا ش±عور ا±جاگر کرنے کے لیے ہر ایک پہ کچھ نہ کچھ ذمہ داریّاں عائد ہوتی ہیں۔
۱) والدین کا کردار اس سلسلے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اوائل عمری سے ہی بچّوں میں مطالعے کی محبّت جگانے کے لیے والدین کو چاہئے کہ وہ مختلف مواقع پہ بچّوں کو اچّھی کتب تحفے میں دیں جس سے ا±ن کے دلوں میں کتاب کے لیے م±حبّت پیدا ہوگی۔
 ۲) حکومتی سطح پر زیادہ سے زیادہ لائبریریوں کو فروغ ملنا چاہیے تاکہ طلباءان کتب خانوں کی طرف متوجّہ ہوں۔ نیز کتابوں کو سستا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ا±ن تک ہر طبقے کی بہ آسانی پہنچ ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو کاغذ پر سے درآمدی ڈیوٹی ختم کرنی ہوگی تاکہ کتابیں سستی ہو سکیں۔
۳) نیزاساتذہ کو اپنی زیرنگرانی ایسی تفریح کا انعقاد کروانا چاہئے جس سے طالب علموں میں م±قابلے کی فضا پیدا ہو اور وہ کتب کی طرف ر±جوع کریں۔
آئیے آج ہم خود سے اس بات کا عہد کریں کہ انفرادی سطح پر ہم کتاب کلچر کو اپنے اپنے طور پر پروان چڑھائیں گے اور "ہاتھوں میں اب کتاب ہو" کاعملی مظاہرہ بنیں گے۔ اگر ہم سب یہ طرز عمل اختیار کریں اور ہمہ وقت ایک کتاب اپنے ساتھ رکھیں تو یقینا ً فارغ وقت میں اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے اس سے ہمارہ فالتو وقت بھی اس مثبت سرگرمی میں اچّھا گزرے گا اور ہماری معلومات میں بھی کچھ نہ کچھ اضافہ ہی ہوگا۔"
ہاتھ میں اب کتاب ہو" کے تحت ہر خاص و عام بالخصوص ط±لباءمیں یہ شع±ور ا±جاگر کر سکتے ہیں کہ وہ ہر وقت ایک کتاب اپنے ہمراہ رکھ کر اپنے قیمتی وقت کا ایک ایک لمحہ استعمال میں لاسکتے ہیں۔ اِس سے جو نتائج حاصل ہوں گے ہم اسکا تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔ 
Practical work carried at Department of Mass comm University of Sindh, under supervision of Sir Sohail Sangi