Pages

Showing posts with label شرمین ناز. Show all posts
Showing posts with label شرمین ناز. Show all posts

Thursday, 19 September 2013

مجبوری کے ہاتھوں ہیجڑا بننا پڑا

پروفائل  اورنگذیب منظور 
مجبوری کے ہاتھوں ہیجڑا بننا پڑا

یوں تو مجبوری انسان سے بہت کچھ کروا دیتی ہے اور مجبور انسان اپنا ضمیر تک بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس مجبوری کے تحت اسکو کیا سے کیا نہیں کرنا پڑتا اور وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ جو قدم اٹھا رہا ہے اس کا کیا انجام ہوگا ۔ایسے ہی ایک مجبور شخص کی پروفائل ہے جو حالات کی وجہ سے ہیجڑا بننے پر مجبور ہو گیا ۔یہ شخص پہلے لڑکا تھا پر حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہیجڑا بن گیا ۔ 
اس شخص کا نام اورنگذیب ہے اورنگذیب کے والد کا نام منظور ہے اورنگذیب ۵نمبر عسائیوںکی کالونی میں رہائش پذیر ہے ۔اورنگذیب نے بلکل نہیں پڑھا ،اورنگذیب کے بھائی HDAمیں گورنمنٹ ملا زم ہیں ۔اورنگذیب کی امی محمدی ہسپتال میں ملازمہ تھی پر طبیعت خراب رہنے کی وجہ سے انھیں ریٹیرمنٹ مل گئی ،پھر اورنگذیب بطور امی کی جگہ محمدی ہسپتال میں ملازم کا کام کرنے لگا ۔ کا م یہ تھا کہ بیڈ کی صفائی کرنا،چادر تبدیل کرنا وغیرہ وغیرہ ۔اورنگذیب کی تین بہنیں ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں اور ابو جو کہ شوگر کے مریض ہیں۔اورنگذیب کے چھوٹے بھائی کو کسی نے گولی مار دی تھی تب اورنگذیب نے ملازم کی نوکری چھوڑ دی تھی اور امی کا خیال رکھنے لگا پر یہ صدمہ اورنگذیب کی امی برداشت نہیں کر پائی اور اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
امی کے انتقال کے بعد اورنگذیب کو اسکے بھائی بھابھی نے گھر سے نکال دیا۔ بھائی بھابھی کا اورنگذیب کے ساتھ اچھا سلوک نہیں تھا وہ اورنگذیب کو اچھا نہیں سمجھتے تھے ،کیونکہ اورنگذیب کا حصہ تھا گھرمیںاور وہ اورنگذیب کو حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔اورنگذیب کے بھائی اپنے ابو امی کی ساری پینشن فوراً ہڑپ کر جاتے اور اورنگذیب کو کچھ بھی نہ دیتے اورنگذیب کا بھائی انتہائی لالچی ہے ۔
اب اورنگذیب کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں تھاگلیوں میں مارا مارا پھرتااور بھیگ مانگتا ۔پھر اسے ایک جگہ ہیجڑوں کے ساتھ رہنے کا ٹھکانہ مل گیا اورنگذیب بھی کیا کرتا اسکی مجبوری تھی اسکورہنے کی جگہ جو چاہیے تھی ۔اورنگذیب ہیجڑوں کے ساتھ رہ رہ کر خود ہیجڑا بن گیا ہیجڑوںجیسے کپڑے پہننے لگا اور خوب تیار شیار ہونے لگا جیسے کہ وہ کو ئی لڑکی ہو۔
پھر ایک دن اپنے بھائی کے گھر گیا اپناحصہ مانگنے تو اسکے بھائی نے اسے بہت مارا اور کہا کہ تم تو نہ عورت ہو نہ مرد ہم تمھارا حصہ کہا سے دیں۔ پھر دوبارہ اسکو اسکے بھائی نے گھر سے نکال دیا پھر روزانہ آتا پیسے مانگنے کے لئیے،اسکے پاس تو کھانے تک کے پیسے نہ تھے ۔ پھر اسکی بھابھی نے کہا کہ ہم تمہیں ایک شرط پر گھر میں رہنے دیں گے جو ہم کہیں گے ویسا تمہیں کرنا ہوگا۔پھروہ سوچنے لگا کہ باہر تو لوگ چین سے جینے نہیںدیتے لوگ مزاق اڑاتے ہیںمیرے کپڑوں اور ہیجڑے پن کی وجہ سے ،لوگ کہتے ہیںکہ یہ تو ہیجڑا ہے۔لوگوںکی ان باتوں سے تنگ آکر اس نے بھابھی کی بات مان لی اسکی بھابھی کہتی تم روز گھر کی صفائی کرو تب تمہیںکھانا اور میسے دونوں ملے گے ۔اب اورنگذیب گھر میں نوکر کی حیثیت سے رہنے لگا۔وہ گھر کے سب کام کرتا پر اسکو اسکے کام کے پیسے نہیںدیتے تھے اور کہتے کہ تمہیں رہنے کی جگہ جو دی ہوئی ہے۔
اورنگذیب کی بھابھی اس سے سب کام کرواتی جیسے کھانا پکوانا ،کپڑے دھونا ،استری کرنا،بچوںکو اسکول سے لے کر اور چھوڑ کر آنا ،بچوں کی پوٹی صاف کرنا،گھر کی صفائی کرنا برتن دھونا وغیرہ وغیرہ۔اور اتنے کام کرنے کے باوجود اورنگذیب اپنے بھائی سے پیسے مانگتا تو وہ اس کو کہتے کہ گھر سے نکال دوں گا۔
یہی وجہ ہے کہ اورنگذیب ہیجڑا بننے پر مجبور ہوا گلی گلی گھوم کر ڈھول بجا کر اور تالیاں بجا کر پیسے مانگتا،ڈانس کرتا اور شادی بیاہوں میں جا کر فنکشن میں ڈانس کرتا ہے اور اس کام میںجو پیسے ملتے وہ اپنے ابو کی بیماری پر خرچ کرتا اور ان پیسوں سے اپنا خرچہ بھی چلاتا اور عید وغیرہ پر اپنی بہنوں کو عیدی وغیرہ بھی دیتا ہے۔
آج کل تو رشتے نام کے رہ گئے ہیں اور انسان حالت سے مجبور آکر ہی ایسا قدم اٹھاتاجیسا کہ اورنگذیب نے کیا اگر اورنگذیب پڑھا لکھا ہوتا تو کبھی ایسا راستہ اختیار نہ کرتا 
شرمین ناز ۔۔۔ بی ایس پارٹ۳ 
Practical work carried at Department of Mass Comm University of Sindh, in 2013
ؒ¿

نو عمری میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

فیچر: نو عمری میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان 
شرمین ناز طالب علم بی ایس پارٹ تھری 2013
آج کے دور میںنئی چیزوںکے بارے میں تجسس ہونا فطری بات ہے۔آج کے دور میں منشیات کا استعمال بہت بڑھتا جارہا ہے۔خاص کر منشیات کا استعمال زیادہ تر نو عمری کی نوجوان لڑکیاں اور لڑکوں میں پایا جاتا ہے۔تمباکو نوشی ،شراب نوشی،شیشہ اور منشیات ان سب چیزوں کا استعمال ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو چکا ہے۔ ہماری نوجوان نسل سیگریٹ نوشی کو بطور فیشن استعمال کرتے ہیںاور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم بہت اونچے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیںاور مختلف ریسٹورنٹ میں بھی شیشے کا استعال بہت عام ہو گیا ہے۔
پاکستانی خواتین ،خاص طور پر نوجوان لڑکیاں جن کا تعلق اونچے خاندانوں سے ہے وہ بھی منشیا ت کی عادی بنتی جا رہی ہیں۔چھوٹے اور یتیم بچوں میں بھی شیشہ پینے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔پہلے تو ان سب چیزوں کا فلموں اور اشتہارات کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا پر آجکل نوجوان کھلے عام نشہ کر رہے ہیں۔
شیشہ ،منشیات،تمباکو نوشی ،شراب نوشی وغیرہ کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاںلاکھوں ڈالر پر کشش اشتہارات پر خرچ کرتی ہیں،اورشیشہ ،منشیات،تمباکو نوشی ،شراب نوشی وغیرہ کو ایک شاندار کام کے طور پر پیش کرتی ہیں۔وہ لوگوں کے نشے کی عادت سے منافع کماتی ہیںلہذا اگر آپ اپنے دوستوں سے متاثر نہیں ہوتے تب بھی ان فنکارانہ اشتہارات سے محتاط رہیں،جن کا مقصد آپ کو ان تمام چیزوں کی طرف راغب کرنا ہے۔
نشے کی ابتداءکس طرح ہوتی ہے ؟اس کا سب سے بڑاسبب یہ ہے کہ ساتھیوں کا دباﺅ،بالغ نظر آنے کی خواہش،یا پھر خاندان میں کوئی نشہ آور ہو اور آپ اسے آزما کر دیکھنا چاہتے ہو کہ اس سے کیا ہوتا ہے اور یہ کیسالگتا ہے۔بہت سے لوگ نوعمری میں نشہ شروع کردیتے ہیں انہیں یہ توقع نہیں ہوتی کہ وہ اس کے عادی ہو جائیں گے ۔اس کو شروع کرنا تو بہت آسان ہے پر چھوڑنا انتہائی مشکل۔
پہلی بار شیشہ پینے اور شراب نوشی وغیرہ کرنے والوں کو متلی محسوس ہوتی ہے اور اکثر اوقات گلے اور پھیپھڑوں میں دردو جلن محسوس ہوتا ہے۔ شیشہ ،منشیات،تمباکو نوشی ،شراب نوشی وغیرہ یہ سب چیزیں انسان کے لیئے جان لیوہ ثابت ہوتی ہیں یہ سب چیزیں پھیپھڑوں کی مستقل بیماری اور دل کے امراض کا بھی سبب بنتی ہیں۔ اس عادت کی وجہ سے ہزاروںروپے بھی خرچ ہوجاتے ہیں۔
شیشے کے مشترکہ استعمال سے اضافی خطرات بھی پیش آتے ہیںمثلاًٹی بی اور ہیپاٹائٹس کی منتقلی وغیرہ۔شیشے کے دھویںمیں زہریلے مادوں کے کاربن مونواکسائڈجیسی بھاری دھاتیں شامل ہوتی ہیں اور ان سب کی مقدار زیادہ میں ڈلی ہوتی ہیں ۔
البتہ منشیات کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے استعمال سے دیگر نئے مسائل اور پیدا ہو جاتی ہیں ۔جیسے کہ خراب جلد،خراب سانس،کپڑوں اور بالوں میں خراب بدبو،کھیلنے کی صلاحیت میں کمی،زخمی ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور صحت یاب ہونے میں تاخیر ہوتی ہے۔یہ نشہ جوڑوں کو آپس میں باندھنے والے ریشوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔شراب نوشی سے جسم کی اعضاءکی ہم آہنگی ختم ہونے لگتی ہے ،اندازہ کرنے کی صلاحیت میں کمی آجاتی ہے ،جسم میں سستی آجاتی ہے،نگاہ اور یاداشت میں کمی آجاتی ہے اور کچھ نہ یاد رہنے جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
تاہم منشیات کے خاتمے میں خصوصاًلڑکیوں کو اس سب بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیئے سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچے اور بچیوں کا دیھان رکھیں کہ وہ اسکول ،کالج سے غیر حاضر تو نہیں،کہیں امتحان میں فیل تو نہیں،رقم کی طلب یا معمول سے زیادہ رقم تو پاس نہیںوغیرہ وغیرہ پر ضرور توجہ دیںاور چھان بین کریں کہ ہمارا بچہ یا بچی غلط کاموںمیں تو نہیں۔سنجیدہ طبقوں اور حکومت کو چاہیئے کہ منشیات کے استعمال کے رجحانات کو کنڑول کرنے کے لیئے اپنا کردار ادا کریںاور اس سلسلے میں اہل علم اور اہل قلم اپنی تحریروں ،تقریروںاور خطبات میں اس موضوع کو زیربحث بنائیں تاکہ اس لعنت سے نجات مل سکے ۔
شرمین ناز.. بی ایس پارٹ۳
Practical work carried at Department of Mass Comm University of Sindh