Pages

Showing posts with label ماریہ خان. Show all posts
Showing posts with label ماریہ خان. Show all posts

Thursday, 19 September 2013

پروفائل: ڈاکٹر اعجاز بھٹی

پرو فائل:ڈاکٹر اعجاز بھٹی 
تحریر ماریہ خان ایم اے پریوئس 
ڈاکٹر اعجاز بھٹی سن 1960میں حیدر آباد کے علاقے ہیرآباد میں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق بہت ہی غریب گھرانے سے ہے ۔آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول سے حاصل کی اور گورنمنٹ کالج سے انٹر کیا۔انٹر کے بعد آپ نے ڈاکٹری کا اینٹری ٹیسٹ پاس کیاپھر لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ڈاکٹر بننے کے بعد آپ نے جناح کالج سے ایل ایل بی بھی کیا۔ڈاکٹر بننے کا شوق تو آپ کو بچپن سے ہی تھا پر آپ کے گھر والے چاہتے تھے کہ آپ وکیل بنیں اس لیے آپ نے ایل ایل بی کیا۔
آپ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے شروع سے ہی آپ کے گھر کے حالات بہت خراب تھے اور آپ کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔آپ کے گھر میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اس لیے گھر کی ساری زمہ داریاں آپ پر ہی تھیں ۔دوران تعلیم آپ کو بہت سی مشکلات سے دو چار ہونا پڑا۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ آپ نے پارٹ ٹائم جابز بھی کیں۔کیونکہ آپ کے دل میں تعلیم کے شوق کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کے لیے بھی بہت محبت تھی۔آپ نے اپنی پڑھائی کو نہیں چھوڑا ۔اپنے فرائض کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی کو بھی جاری رکھا۔آپ نے میٹرک اور انٹر کے امتحا نات میں پوزشن بھی حاصل کی ۔آپ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیوشنس بھی پڑھائیں۔آپ نے سن 1985میں ایم بی بی ایس مکمل کیا اس کے بعد لیاقت میڈیکل کالج میں ہی ہاوس جاب کی۔پھر اپنے والدین کی خواہش کے مطابق آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیاپر اس میں آپ کامیاب نہ ہوسکے۔اب آپ پندرہ سال سے سول ہسپتال میں اپنی خدمات باخوبی انجام دے رہے ہیں ۔آپ نہ صف ایک اچھے ڈاکٹر بلکہ خدا ترس انسان بھی ہیں۔آپ غریبوں کا مفت علاج بھی کرتے ہیںاور بیماروں کو مفت دوائیں فراہم بھی کرتے ہیں۔آپ کی زندگی تمام لوگونں کے لیے بے مثال نمو نہ ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کوشش نہیں کرتے اور اپنی غربت کی وجہ سے بیٹھ جاتے ہیں اسی وجہ سے وہ لوگ آگے نہیں بڑھ پاتے۔
Practical work carried at Department of Mass Comm University of Sindh in 2012

نیو میجیسٹک سینیما

نیو میجیسٹک سینیما 
فیچر: تحریر ماریہ خان ایم اے سال اول( سال ۲۱۰۲)
     ایک دور تھا جب ہر شہر میں بہت سے سینیما گھر ہوا کرتے تھے اور بہت سے لوگ ان 
مین جا کر فلمیں دیکھتے تھے ۔اس زمانے میں کچھ الگ ہی ماحول تھا ۔پاکستان میں ڈھائی سو سے تین سو کے قریب سینیما گھر تھے جن کی تعداد اب تیس سے چالیس رہ گئی ہے۔ سینیما گھروں کے گرتے ہوے میعار 
کی وجہ بہتر پروڈکشن کا نہ ہونا ہے۔جس کی بنیادی وجوہات ایک تو انوسٹمینتٹ کا نہ ہونا اور دوسرا فیسیلٹیز کا نہ 
ہونا ہے۔ اسی طرح ایک سینیما ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں جو حیدرآباد کے مشہور سینیماو¿ں میں سے ایک ہے یہ نیو میجیسٹک سینیما ہے ۔اس کا شمار حیدرآباد کے بڑے اور پرانے سینیماو¿ں میں ہوتا ہے اور میجیسٹک کا مطلب ہی بڑا اور عالیشان ہے۔ یہ حیدرآباد کے پر رونق علاقے صدر میں واقع ہے۔ یہ سینیما ایک بڑی جگہ پر تعمیر ہے اس کی کنسٹڑکشن دوسرے سینیماو¿ں سے مختلف ہے اس کی بناوٹ کچھ اس طرح کی ہے ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی پرانی حویلی یا ٹھریٹر میں بیٹحے ہوں ۔ اس میں بہت سے لوگوں کے بیٹحنے کی گنجائش ہے ۔ اس سینیما میں دونوں طرف سے آنے اور جانے کے راستے ہیں اور پارکنگ کی بھی وسیع جگہ موجود ہے ۔ اس سینیما کی اسکرین کافی بڑی اور اسکا ساو¿ند سستم بھی بہت اچھا ہے ۔ جس طرح ہر چیز کی اپنی خاصیت ہوتی ہے اسی طرح بہت سے سینیماو¿ں کی اپنی اپنی خاصیت تھی۔ پر نیو میجیسٹک سینیما کی یہ خاصیت تھی کہ نئی فلمیں سب سے پہلے اس سینیما میں لگتی تھیں خاص طور سے اچھی سندھی اور آرٹس بیس فلمیں جو کہ لوگ بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ یہاں آنا پسند کرتے تھے ۔ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایک جوش ہوتا تھا سینیما میں آکر فلمیں دیکھنے کا پر آج کل یہ جوش لوگوں کے دلوں میں بہت کم نظر آرہا ہے۔ پر پھر بھی آج لوگ یہاں بڑی تعداد میں آتے ہیں اور نئی پرانی فلمیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی حوالے سے ہم نے کچھ لوگوں سے بات چیت کی اور سینیماو¿ں کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی تو انھوں نے بتایا کے سینیما گھر میں فلمیں دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ جب لوگ دن بھر اپنے کاموں سے تھک جاتے ہیں تو ان لوگوں کے لیئے یہ ایک اینٹرٹینمنٹ کی جگہ ہے جہاں وہ اپنی فیملی یا دوستوں وغیرہ کے ساتھ آکر فلمیں دیکھتے ہیں اور اپنی ٹھکاوٹ دور کرتے ہیں۔ 
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi. Department of Mass Communication University of Sindh