Pages

Showing posts with label Hyderabad. Show all posts
Showing posts with label Hyderabad. Show all posts

Thursday, 19 September 2013

نیو میجیسٹک سینیما

نیو میجیسٹک سینیما 
فیچر: تحریر ماریہ خان ایم اے سال اول( سال ۲۱۰۲)
     ایک دور تھا جب ہر شہر میں بہت سے سینیما گھر ہوا کرتے تھے اور بہت سے لوگ ان 
مین جا کر فلمیں دیکھتے تھے ۔اس زمانے میں کچھ الگ ہی ماحول تھا ۔پاکستان میں ڈھائی سو سے تین سو کے قریب سینیما گھر تھے جن کی تعداد اب تیس سے چالیس رہ گئی ہے۔ سینیما گھروں کے گرتے ہوے میعار 
کی وجہ بہتر پروڈکشن کا نہ ہونا ہے۔جس کی بنیادی وجوہات ایک تو انوسٹمینتٹ کا نہ ہونا اور دوسرا فیسیلٹیز کا نہ 
ہونا ہے۔ اسی طرح ایک سینیما ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں جو حیدرآباد کے مشہور سینیماو¿ں میں سے ایک ہے یہ نیو میجیسٹک سینیما ہے ۔اس کا شمار حیدرآباد کے بڑے اور پرانے سینیماو¿ں میں ہوتا ہے اور میجیسٹک کا مطلب ہی بڑا اور عالیشان ہے۔ یہ حیدرآباد کے پر رونق علاقے صدر میں واقع ہے۔ یہ سینیما ایک بڑی جگہ پر تعمیر ہے اس کی کنسٹڑکشن دوسرے سینیماو¿ں سے مختلف ہے اس کی بناوٹ کچھ اس طرح کی ہے ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی پرانی حویلی یا ٹھریٹر میں بیٹحے ہوں ۔ اس میں بہت سے لوگوں کے بیٹحنے کی گنجائش ہے ۔ اس سینیما میں دونوں طرف سے آنے اور جانے کے راستے ہیں اور پارکنگ کی بھی وسیع جگہ موجود ہے ۔ اس سینیما کی اسکرین کافی بڑی اور اسکا ساو¿ند سستم بھی بہت اچھا ہے ۔ جس طرح ہر چیز کی اپنی خاصیت ہوتی ہے اسی طرح بہت سے سینیماو¿ں کی اپنی اپنی خاصیت تھی۔ پر نیو میجیسٹک سینیما کی یہ خاصیت تھی کہ نئی فلمیں سب سے پہلے اس سینیما میں لگتی تھیں خاص طور سے اچھی سندھی اور آرٹس بیس فلمیں جو کہ لوگ بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ یہاں آنا پسند کرتے تھے ۔ پہلے لوگوں کے دلوں میں ایک جوش ہوتا تھا سینیما میں آکر فلمیں دیکھنے کا پر آج کل یہ جوش لوگوں کے دلوں میں بہت کم نظر آرہا ہے۔ پر پھر بھی آج لوگ یہاں بڑی تعداد میں آتے ہیں اور نئی پرانی فلمیں دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی حوالے سے ہم نے کچھ لوگوں سے بات چیت کی اور سینیماو¿ں کے بارے میں ان کی رائے معلوم کی تو انھوں نے بتایا کے سینیما گھر میں فلمیں دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ جب لوگ دن بھر اپنے کاموں سے تھک جاتے ہیں تو ان لوگوں کے لیئے یہ ایک اینٹرٹینمنٹ کی جگہ ہے جہاں وہ اپنی فیملی یا دوستوں وغیرہ کے ساتھ آکر فلمیں دیکھتے ہیں اور اپنی ٹھکاوٹ دور کرتے ہیں۔ 
Practical work carried out under supervision of Sir Sohail Sangi. Department of Mass Communication University of Sindh

نول رائے مارکیٹ ٹاور

سحرش سیّد 

 نول رائے مارکیٹ ٹاور 
عمارتیں ہرقوم کی تاریخ ،تہذیب وتمدن،روایات،معاشرتی اقدار اوروہاںکے رہنے والوںکی سوچوں کا عکس ہوتی ہے ۔جب ہم کسی ملک ےا شہر جاتے ہیں تو سب سے پہلے اس ملک کی موجودہ حالت یعنی ڈھانچے کو دیکھ کر ہی اندازہ لگا لیتے ہیںکہ ےہاں لوگ،ان کی ذہنیت اور حکو متی سطح پر یہ ملک دنیا کے نقشے پرکیا اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ےہ اہم عمارتیں ہی ہیں جن کی وجہ سے ہزاروں سیاح اور تاریخ داں مختلف ملکوں کا رُخ کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے بارے میںمکمل معلومات حاصل کرکے دوسرے لوگوں پہنچاتے ہیں۔
 حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہرہے جہاں کئی ایک تاریخی عمارتیں اور تالپوروں کے مقبرے فن تعمیر سکا شاہکار ہیں۔ ہم یہاں نول رائے ٹاور کا زکر کریں گے جو عرف عام میں مارکیٹ گھنٹہ گھر یا ٹاور کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ٹاور کے نام سے ہمارے ذہن میںایک اونچی اور بڑی عمارت کاخاکہ بنتا ہے پر گھنٹہ گھر اےک درمیانے درجے کی پر دیکھنے میںنظروںکوٹہرادینے والی عمارت ہے جس کا تعمیراتی ڈھانچہ انگریزوںکے مذہبی اور ثقافتی اقدار کو نماےاںکرتاہے ۔
گرہام بیل کی مشہور ایجاد وقت کی پیمائش کاآلہ جسے عام لفظوں میںگھڑی یا گھڑیال کہتے ہیںنول رائے ٹاور مارکیٹ پر آویزاںہے انگریزوں کی غلامی کے تحفے اپنی جگہ پر مگر یہ ان کی اچھی کا وشوں کو ےاد دلاتا ہے ۔یہ ٹاور ایک باب کی اہمیت رکھتا تھا اور وقت کی پیمائش میں لوگوںکے لیے کار آ مد ثابت ہوا کرتا تھاکیونکہ اس وقت لوگوں پاس دورِحاضر کی طرح وقت کے پیمائش کے آلے نہیں ہوا کرتے تھے،لوگ اندازوںاور دوسری سمتی پیمائشوںسے وقت کو جانئے کی کوشش کیا کرتے تھے جو کہ نہ صرف مشکل بلکہ مستند بھی نہیںہواکرتا تھا۔
 محقق اور صحافی رحیم بخش برق نے سندھ کے مختلف شہروں میں موھود ٹاوروں پر تحقیق کی۔ ان کی تحقیق پر مشتمل ہفتیوار پروگرام کا ریڈیو پاکستانسے بھی نشر ہوا کرتا تھا۔ان کے مطابق ٹاورزانگریزوں نے تمام اہم شہروں میں جےسے سکھر، شکارپور،جیکب آباد،کراچی اورہمارے شہر حیدرآباد میں بنائے تھے۔یہ ۴۱۹۱ میں تعمیر کیا گیا جوآج تک مارکیٹ کی خاص پہچان ہے اسی وجہ سے یہ علاقہ ٹاور مارکیٹ کے نام سے مشہور ہے۔
شمال سے جنوب کی طرف شہر میں آتی ہوئی راہ میں مارکیٹ کا یہ دروازہ اپنی مثال آپ ہے۔ قدیم وجدید طرزِتعمیر کا شاہکار ایک باب نما شکل کا ہے عین وسط میں گھڑیال لگا ہواہے جو کہ کچھ ماہ پہلے الارم کے ساتھ کام کیا کرتا تھا پر اہلِ محلہ کی پریشانی کے سبب اس کو پھرسے ویران کر دیا گیا اورےوں اب پھر سے صرف ایک تاریخی عمارت رہ گئی ہے جس کی بد نصیبی سے دونوں سمت ہی کی حالتِ زار بھی کچھ خستہ ہورہی ہے۔
دونوں جانب گوشت مارکیٹ واقع ہے مشرقی بازو پر سبزی بازار اور مغربی بازو پرپان مارکیٹ،مرغی مارکیٹ اور سابقہ ایلائٹ سینیما عمارت ہے۔ریڑھی والوں کا اپنا سا جادوئی انداز ہے جو کہ ہر راہ گزر کو متاثر کررہا ہے اشیاءخریدنی ہو ےا نہ خریدنی ہوپر آپ کو بازار سے گزرتے ہوئے ہی اچھی خاصی معلومات مل جاتی ہے۔کسی بھی ریڑھی والے کا کوئی دام نہیںکوئی دس پانچ کم کرنے میں مان جاتا ہے کسی سے اچھی خاصی رعایت مل جاتی ہے گو کہ ریڑھی والے بھی اچھی خاصی مارکیٹنگ کی ٹرمنولوجی کو جانتے ہیں جیسی شخصیت ہو ویسی قیمت لگاتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے کی گئی مرمت نے اس عمارت کو پھر سے جاذبِ نظر ضروربناےا ہے اوپر کا حصہ سرخ رنگ کا حامل ہے اور بقیہ حصے پر کریم رنگ کےاگیا ہے۔جو بھی ہے ان ہی تاریخی عمارتوں سے ہمار ی تاریخی یادیں وابستہ ہے جو ہمارے بعد آنے والوں کو بھی اس جگہ کی تاریخی قدروقیمت کو اجاگر کرتی ہو ئی نظر آئینگی۔ 
M.A Previous in 2012
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Cozy Haleem Hyderabad


لکھنے والے کا نام نہیں پتہ۔ رول نبمر بھی ہم نے ڈالا ہے

حیدرآباد میں دعوتی کھانوں کی بات اورت حلیم، کا ذکر نہ ہو تو ایسا ہو نہیں سکتا اور اگر حلیم کوزی کا نہ ہو تو یوں سمجھئے کہ آپ حلیم کے اصل ذائقے سے محروم ہی ہیں۔ کوزی حلیم کا شمار حیدرآباد کے مشہور و معروف چند کھانوں میں ہوتا ہے جنکی شہرت نہ صرف حیدرآباد بلکہ حیدرآباد سے باہر بھی ہے۔
بے شک” خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں“۔ ہمت، خود پہ بھروسہ اور یقین کامل وہ عوامل ہیں جو انسان کو ہر میدان مین سرخرو کرتے ہیں۔ انھی عوامل کی بنیاد پر سلیم بھٹی نے اپنے چھوٹے سے ٹھیلے سے اپنے روزگار کا آغاز کیا جو ُج پورے حیدرآباد میںکوزی حلیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آج سے بائیس سال پہلے 6 ستمبر 1990 کو جب سلیم بھٹی نے کوزی حلیم کی داغ بیل ڈالی تو آپ سمیت کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ یہ حلیم حیدرآباد کی پہچان بن جائے گا۔
محم سلیم اپنے دوستوں کے ہمراہ اپنا فارغ وقت فٹ پاتھ پر باتوں میں گزارا کرتے تھے۔ اس فارغ وقت کو اچھے مصرف میں لانے کے خیال سےانہوں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ حلیم کا کام شروع کیا۔ اس کام کی ابتداءمحض ایک ٹھیلے اور دیگ سے کی گئی۔ شروع میں سلیم بھٹی صاحب نے اپنے دوستوں کے ساتےھ مل کر اس کام کے کئے شدید محنت کی۔ یہاں تک کہ آپ اپنے سر پر دیگ رکھ کر بیچنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ یہ ان کی اس انتھک محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک ٹھیلے سے شروع کیا جانے والا یہ کام اب ایک کامیاب بزنس کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ شروع میں محمد سلیم نے اس کام کے لئے 18, 20 گھنٹے تک مسلسل کام بھی کیا۔ اس وقت ان لوگوں کے پاس اپنے برتن تک نہیں تھے لیکن کشھ کرنے کی لگن نے انہیں ہمت نہ ہارنے دی اور اسی باعث آپ نے سال کے پورے 364 دن کام کام کرنے کو ترجیح دی اور آج تک آپ اپنے اسی اصول پر کاربند ہیں۔ ا ب پورے سال میں بقرة عید کے صرف تین دن ہی آپ کی دوکان بند رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر موسم میں، ہر قسم کے حالات میں یہ دوکان ہمیشہ کھلی رہتی ہے۔ ا ن کی اسی انتھک محنت اور اپنے کام سے محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج لفظCozy جس کے معنٰی Hot& Spicy کے ہیں محمد سلیم کی وجہ شہرت بن گیا ہے۔ حیدرآبادشہر میں پہلے خواتین کے بیٹھنے کے لئے الگ سے جگہیں مختص نہیں ہوا کرتی تھیں تاہم جب محمد سلیم نے اپنی دوکان کا آغاز کیا تو یہ وہ پہلی دوکان تھی جہاں خواتین کے بیٹھنے کے لئے مناسب انتظام موجود تھا۔ 
اگر ہم بھی سلیم بھٹی کی طرح محنت کو اپنا شعار بنا لیں تو خواہ کوئی بھی شعبہ کیوں نہ ہو کامیابی ہمیشہ ہمارے قدم چومے گی۔ 
2012 Batch